سیاہ فام کی ہلاکت پر برطانیہ میں ہنگامے، مظاہرین نے ونسٹن چرچل کو نسل پرست قرار دے دیا

مظاہرین ایڈورڈ کولسٹن کے مجسمے کی گردن میں رسی ڈال کر گھسیٹتے ہوئے لائے اور دریا میں پھینک دیا

لندن : (پاکستان فوکس آن لائن)امریکی سیاہ فام جارج فلائیڈ کی ہلاکت پر برطانیہ میں بھی احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔خبرایجنسی کے مطابق سینٹرل لندن میں ہونے والا احتجاج پر امن رہا لیکن وزیر بورس جانسن کی رہائش گاہ کے قریب ہونے والے احتجاج میں جھڑپیں ہوئیں تاہم بعد ازاں احتجاج ختم کردیا گیا۔مظاہرین نے سابق وزیراعظم ونسٹن چرچل کو’نسل پرست‘ قرار دیا اور سابق برطانوی وزیراعظم کے مجسمے کی توڑ پھوڑ کرنے کے ساتھ ان کی یادگار پر کھڑے ہوکر نعرے بھی لگائے۔ مظاہرین نے گاندھی سمیت دیگر مجسموں پر پلے کارڈ ز بھی نصب کئے۔مظاہرین نے پارلیمنٹ کی جانب جانے والے پل پر بھی ایک گھنٹہ احتجاج کیا اور جارج فلائیڈ کو انصاف فراہم کرنے کے نعرے لگائے۔
برطانیہ میں نسل پرستی کے خلاف احتجاج کے دوران مظاہرین نے سترویں صدی میں انسانوں کی تجارت کرنے والے شخص ایڈورڈ کولسٹن کے مجسمے کو غیض و غضب کا نشانہ بنایا۔مظاہرین ایڈورڈ کولسٹن کے مجسمے کی گردن میں رسی ڈال کر گھسیٹتے ہوئے لائے اور مجسمہ کو دریا میں پھینک دیا۔
برسٹل میں مشتعل مظاہرین نے ایک غلام تاجر کا مجسمہ اتارا اور اسے ندی میں پھینک دیا۔ 17 ویں صدی کے ممتاز غلام تاجر ایڈورڈ کولسٹن کا مجسمہ گرانے کے لئے رسے استعمال کیے۔
برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کے مطابق احتجاجی مظاہرے میں شریک شرپسند عناصر نے غنڈہ گردی کی اس لیے وہاں ہونے والا احتجاج متشدد شکل اختیارکرگیا۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹرپر دیئے گئے اپنے ردعمل میں بورس جانسن کا کہنا تھا کہ لوگوں کو معاشرتی دوری کو مدنظر رکھتے ہوئے پرامن احتجاج کرنے کا حق ہے لیکن انہیں پولیس پر حملہ کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ شرپسند عناصر نے غنڈہ گردی کے ذریعہ مظاہرو میں بگاڑ پیدا کیا اور اسی مقصد کی نفی کی جس کے لئے وہ گھروں سے نکلے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا ذمہ داران کو جوابدہ کیا جائے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *