ڈونلڈ ٹرمپ کا سعودی ولی عہد کو فون، تیل تنصیبات پر حملوں پر مدد کی پیشکش

ریاض: (پاکستان فوکس آن لائن)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی ولی عہد کو فون کر کے سعودی تیل تنصیبات پر ڈرون حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے مدد کی پیشکش کردی۔غیر ملکی خبر رساں ادارے اے پی کی رپورٹ کے مطابق ولی عہد محمدبن سلمان کا کہنا ہے کہ سعودی عرب دہشتگردوں سے خود نمٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ٹیلیفونک رابطے کے دوران امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایسے حملوں سے امریکی اور عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
تفصیلات کے مطابق امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کو پیشکش کی ہے کہ وہ اس کی سلامتی اور استحکام کو یقینی بنانے کے لیے مدد دینے کو تیار ہیں۔ انہوں نے یہ پیشکش سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک بات چیت میں کی۔امریکی صدر نے ٹیلی فونک بات چیت سعودی عرب میں تیل کی دو تنصیبات پر ہونے والے ڈرون حملوں کے بعد کی۔
سعودی عرب کی خبررساں ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے امریکی صدر کی جانب سے کی جانے والی پیشکش کے جواب میں کہا کہ مملکت اس طرح کی دہشت گردانہ حارحیت سے نمٹنے کی پوری صلاحیت اور عزم رکھتی ہے۔عالمی خبررساں ایجنسی کے مطابق یمن کے حوثی باغیوں نے سعودی آرامکو کی تیل کی دو تنصیبات کو ڈرون حملوں میں نشانہ بنایا ہے۔
غیر ملکی خبررساں ادارے نے سعودی عرب کی وزارت داخلہ کے حوالے سے بتایا کہ ہفتہ کی علی الصبح چار بجے کے قریب ڈرون حملوں کے نتیجے میں دو تنصیبات میں آگ لگ گئی تھی جن پر قابو پا لیا گیا۔عالمی خبر رساں ایجنسی کے مطابق جن دو تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ان میں سے ایک ملک کے مشرقی علاقے الدمام شہر کے قریب بقیق میں واقع ہے جب کہ دوسرے ہجرہ خریص آئل فیلڈ میں ہے۔

سعودی آئل ریفائنری پر حملے میں ایران براہ راست ملوث ہے: امریکا

دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے سعودی آئل ریفائنری آرامکو پر ڈرون حملوں کا ذمہ دار ایران کو قرار دیدیا۔دو روز قبل سعودی عرب کی سب سے بڑی آئل ریفائنری آرامکو کی دو آئل فیلڈز پر ڈرون حملے کیے گئے تھے جس کے باعث ریفائنری میں بڑے پیمانے پر آگ لگ گئی تھی۔یمن کے حوثی باغیوں نے سعودی عرب کی سرکاری آئل ریفائنری پر ڈرون حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی۔
تاہم امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے یہ ماننے سے انکار کر دیا ہے کہ ڈرون حملے حوثی باغیوں نے کئے تھے۔مائیک پومپیو نے سوشل میڈیا پر اپنی ٹوئٹ میں لکھا کہ سعودی عرب پر 100 کے قریب ڈرون حملوں میں ایران ملوث ہے جب کہ ایران کے صدر اور وزیر خارجہ ایسا ظاہر کر رہے ہیں کہ وہ سفارتکاری میں مصروف ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ شدت پسندی کو ہوا دیکھنے کے خاتمے کی تمام تر کوششوں کے باوجود ایران نے دنیا کو آئل سپلائی کرنے والی ریفائنری پر پے درپے حملے کیے، ایسے کوئی شواہد نہیں ملے کہ یہ حملے یمن سے کئے گئے ہوں۔
امریکی وزیر خارجہ نے تمام ممالک سے مطالبہ کیا کہ ایران کے حملوں کی سر عام اور واضح مذمت کی جائے۔مائیک پومپیو نے کہا کہ امریکا اپنے شراکت داروں اور اتحادیوں کے ساتھ مل کر اس بات کو یقینی بنائے گا کہ انرجی مارکیٹ کو آئل فراہم کیا جا رہا ہے جب کہ اس جارحیت کا ذمہ دار ایران ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *