سعودی عرب اور یو اے ای کی مبینہ توہین پر سپرماڈل کی معذرت

فلسطینی نژاد امریکی سپرماڈل بیلا حدید نے ٹوئٹر اور انسٹاگرام پر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں اپنے مداحوں سے اس وقت معذرت کی، جب ان پر ان ممالک کی توہین کا الزام عائد کیا۔سوشل میڈیا پر بیلا حدید کے خلاف مہم اس وقت شروع ہوگئی جب 22 سالہ سپرماڈل نے پیر کو انسٹاگرام اسٹوریز میں ایک تصویر پوسٹ کی، جس میں وہ کسی ائیرپورٹ لاؤنچ میں بیٹھی ہیں اور ان کے جوتوں کا رخ ایک اماراتی اور ایک سعودی طیارے کی جانب ہے۔تصویر سے ایسا محسوس ہوا کہ جیسے انہوں نے دانستہ طور پر اپنے جوتے کا رخ طیارے کے پچھلے حصے میں رکھا، جہاں دونوں ممالک کے قومی پرچم بنے ہوئے تھے۔اس تصویر کے پوسٹ ہونے کے بعد ٹوئٹر صارفین نے اسے دونوں ممالک کی توہین قرار دیا اور سوشل میڈیا نیٹ ورک پر سپرماڈل کو نسل پرست قرار دیتے ہوئے مہم شروع ہوگئی۔سوشل میڈیا پر لوگوں نے ان برانڈز کے بائیکاٹ کا بھی مطالبہ کیا جن کے لیے بیلا حدید ماڈلنگ کرتی رہی ہیں۔

سوشل میڈیا پر سخت ردعمل کے بعد بیلاحدید نے ٹوئٹر اور انسٹاگرام پر معذرت کرتے ہوئے لکھا ‘یہ علی الصبح ہونے والی ایک دیانتدارانہ غلطی ہے، میں نے کبھی دانستہ طور پر لوگوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کی کوشش نہیں کی، میں اس پر بہت معذرت خواہ ہوں۔

انہوں نے اپنے بیان میں لکھا ‘میں کبھی نہیں چاہتی کہ میری پوسٹ یا پلیٹ فارم کسی کے خلاف نفرت کے لیے استعمال ہو، خصوصاً میری اپنی خوبصورت اور طاقتور ثقافت کے خلاف، میں اپنے خاندان کی مسلم اور عرب پس منظر سے محبت اور اس کی پروا کرتی ہوں، بالکل ویسے ہی جیسے دنیا بھر میں میرے بھائی بہنیں کرتے ہیں۔

انہوں نے مزید لکھا ‘میں دل سے ان افراد سے معذرت کرتی ہوں، جن کو اس سے تکلیف پہنچی ہو، خاص طور پر سعودی عرب اور یو اے ای کے افراد سے۔ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے فوٹو کے پس منظر میں موجود طیاروں پر توجہ نہیں دی تھی اور لوگ سمجھ سکیں گے کہ یہ سب غلطی سے ہوا ہے۔

بیلا حدید کے والد فلسطینی جبکہ ماں نیدرلینڈ سے تعلق رکھتی ہیں اور سپرماڈل کی پیدائش واشنگٹن ڈی سی میں ہوئی۔بیلا حدید امریکی معروف سپر ماڈل گی گی حدید کی چھوٹی بہن ہیں، دونوں بہنیں معروف امریکی فیشن برانڈ وکٹوریا سیکریٹ کی ماڈلز بھی رہ چکی ہیں۔دونوں بہنوں کو نہ صرف امریکا و یورپ بلکہ عرب دنیا میں بھی سپر ماڈلز کی حیثیت حاصل ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *