مقبوضہ کشمیر میں 16 ویں روز بھی بدستور کرفیو نافذ، مظاہرین کا احتجاج جاری

سری نگر: (پاکستان فوکس آن لائن) مقبوضہ کشمیر میں 5 اگست کو لگائے گئے کرفیو کو 16 روز ہوگئے۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق کرفیو کے باعث مقبوضہ وادی میں انٹرنیٹ، فون اورٹی وی نشریات بدستور بند ہیں جب کہ حریت رہنما اور سیاسی رہنما بھی گھروں یا جیلوں میں بند ہیں۔کے ایم ایس کے مطابق کرفیو اور دیگر پابندیوں کے باعث وادی میں دواؤں اور کھانے پینے کی اشیا کی قلت ہے۔کرفیوکے باوجود سری نگر سمیت مقبوضہ وادی میں کشمیریوں کا بھارت مخالف احتجاج جاری ہے جس پر قابض بھارتی فوج نے پیلٹ گن کا استعمال کیا اور آنسو گیس کی شیلنگ بھی کی جس کے نتیجے میں متعدد مظاہرین زخمی ہوگئے۔
میڈیا رپورٹس کےمطابق مقبوضہ وادی کے مخصوص علاقوں میں اسکول کھلنے کے باوجودخالی رہے اور وادی کی موجودہ صورتحال پر والدین نے بچوں کو اسکول بھیجنے سے انکار کردیا۔
میڈیا رپورٹس کےمطابق چار ہزار سے زائد کشمیریوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ ہر جگہ فوج موجود ہیں، جس کی وجہ سے راستے مسدود ہو گئے ہیں، ادویات بالکل محدودہیں، کئی علاقوں میں مظاہرین کرفیو توڑ کر باہر نکل آئے اور قابض فوج کیساتھ جھڑپیں بھی ہوئیں۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ریاست کا دنیا سے انٹرنیٹ اور فون کے ذریعے رابطہ منقطع ہے۔ پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت 4 ہزار سے زیادہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ متنازع قانون کے تحت حکام کسی بھی شخص کو کم از کم دو سال تک مقدمہ چلائے بغیر حراست میں رکھ سکتے ہیں۔ حکومتی حراستی مراکز اور قید خانوں میں جگہ کم ہونے کی وجہ سے قیدیوں کو کشمیر سے باہر منتقل کیا جا رہا ہے۔
نئی دہلی میں انسانی حقوق کے ایک گروپ کا کہنا ہے کہ بھارتی قابض فوج چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے گھروں میں خواتین، لڑکیوں سمیت بچوں سے بد تمیزی کرنے لگی ہے، رات کے اندھیروں میں بھارتی فوج گھروں پر چھاپے مارنے چلی جاتی ہے، خواتین، لڑکیوں سمیت بدتمیزی کی جاتی ہے۔
خبر رساں ادارے کے مطابق راستے مسدود ہیں، ہر جگہ فوج موجود ہے، ادویات محدود ہیں، گزشتہ روز بھی ایک مریضہ کوادویات نہ ملنے سے چل بسی تھی۔ بھارت میں موجود ڈاکٹروں نے مودی سرکار کو انتباہی خط لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وادی سے کرفیو ہٹایا جائے، مقبوضہ وادی کی صورتحال خوفناک صورتحال اختیار کر جا رہی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *