مودی کی انتخابی چال: قوم سے خطاب میں خلا میں لائیو سیٹلائٹ مار گرانے کا دعویٰ کر دیا

بھارتی وزیراعظم نے دعویٰ کیا کہ امریکا، روس اور چین کے بعد بھارت چوتھا ملک ہے جس نے میزائل کے ذریعے سٹیلائٹ کو نشانہ بنانے کی صلاحیت حاصل کرلی

نئی دہلی: (پاکستان فوکس آن لائن) بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے انتخابات سے قبل اسپیس ٹیکنالوجی میں انقلاب برپا کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے قوم سے خطاب میں کہا کہ بھارت نے ‘اینٹی سٹیلائٹ میزائل کا کامیاب تجربہ کیا ہے جس پر قوم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔بھارتی میڈیا کے مطابق وزیراعظم نریندر مودی نے قوم سے خطاب کیا جسے براہ راست سرکاری و نجی ٹی ویز، ریڈیو اور سوشل میڈیا پر نشر کیا گیا۔نریندر مودی نے قوم سے خطاب میں کہا کہ ‘مشن شکتی کامیابی سے مکمل کرلیا گیا ہے جس کے تحت میزائل کے ذریعے خلاء میں نچلی سطح پر گردش کرنے والے سٹیلائٹ کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا جس پر قوم مبارکباد کی مستحق ہے۔بھارتی وزیراعظم نے یہ نہیں بتایا کہ مدار میں کس سٹیلائٹ یا کس ملک کے سٹیلائٹ کو نشانہ بنایا گیا تاہم ان کا کہنا تھا ‘شکتی مشن کو مکمل کرنے کے لیے بھارت نے عالمی قوانین یا معاہدوں کی خلاف ورزی نہیں کی۔

بھارتی وزیراعظم نے دعویٰ کیا کہ امریکا، روس اور چین کے بعد بھارت چوتھا ملک ہے جس نے میزائل کے ذریعے سٹیلائٹ کو نشانہ بنانے کی صلاحیت حاصل کرلی۔قوم سے خطاب کے دوران نریندر مودی نے ووٹرز کی توجہ حاصل کرنے کے لیے کہا کہ ‘شکتی مشن کی دو خصوصیات ہیں، ایک یہ کہ بھارت نے جدید صلاحیت کی حامل ٹیکنالوجی حاصل کرلی اور دوسرا یہ کہ یہ صلاحیت مقامی طور پر حاصل کی گئی ہے۔یاد رہے کہ بھارت میں انتخابات کے شیڈول کا اعلان ہوچکا ہے اور اس سے قبل وہ انتخابی جلسوں میں ووٹرز کو قائل کرنے کے لیے پاکستان کے خلاف بیان بازیاں بھی کرچکے ہیں۔26 فروری کو پاکستان میں مداخلت کی کوشش اور اس کے اگلے ہی روز پاکستان کے بھرپور ردعمل اور پائلٹ کی گرفتاری اور پھر پاکستان کی جانب سے جذبہ خیرسگالی کے تحت اس کی واپسی پر بھارت کو دنیا بھر میں سبکی کا سامنا کرنا پڑا۔اس واقعے کے بعد نریندر مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے پائلٹ کی واپسی کو بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے اسے اپنی انتخابی مہم میں بھی استعمال کیا اور ایک مرتبہ پھر انتخابات میں کامیابی کے لیے نریندر مودی اسپیس ٹیکنالوجی میں انقلاب برپا کرنے کا دعویٰ کر رہے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *