صدف کنول اور شہروز سبزواری نکاح کے بندھن میں بندھ گئے

شہروزسبزواری اورصدف کنول سوشل میڈیا پرشدید تنقید کی زد میں ہیں

کراچی: (پاکستان فوکس آن لائن)معروف اداکار شہروز سبزواری اور ماڈل صدف کنول نکاح کے بندھن میں بندھ گئے۔میڈیارپورٹس کے مطابق شوبز کے دونوں خوبصورت اسٹارز کا نکاح ہو گیا ہے جس کے بعد سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم انسٹاگرام پر صدف کنول نے اپنا نام تبدیل کر کےصدف سبز واری لکھ دیا ہے۔
دوسری جانب ماڈل صدف کنول اور اداکار شہروز سبزواری گزشتہ روز سے سوشل میڈیا کے تمام ہی پلیٹ فارم پر شدید تنقید کی زد میں ہیں۔شادی کے بندھن میں بندھنے والی ماڈل صدف کنول اوراداکارشہروز سبزوای سوشل میڈیا کے تمام ہی پلیٹ فارم پر صارفین کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔جیسے ہی دونوں کی جانب سے تصاویرپوسٹ کی گئیں تھیں اس کے بعد سے ہی دونوں ٹاپ ٹرینڈ بن گئے جہاں شہروزسبزواری کی پہلی اہلیہ سائرہ یوسف کو اپنے علیحدگی کے فیصلے پرخوب سراہا جارہا ہے جب کہ صدف کنول اورشہروزسبزواری پرخوب تنقید جاری و ساری ہے۔
ایک صارف نے لکھا کہ دنیا میں یہ پہلی شادی ہے جس میں مبارک باد کم اورلعنتیں زیادہ مل رہی ہیں جب کہ ایک صارف نے لکھا کہ شہروزسبزواری نے خزانہ کی جگہ کچرے کو چن لیا ہے۔ایک اورصارف نے صدف کنول کا ہیش ٹیگ استعمال کرتے ہوئے لکھا کہ انسان کوآس پاس آستین کے سانپوں سے ہوشیاررہنا چاہیئے۔مختلف صارفین کی جانب سے یہ بھی لکھا گیا کہ خدا سب کوان لوگوں سے بچائے جو ایک دوسرے کا گھربرباد کرتے ہیں۔
دوسری جانب متعدد فنکاروں نے سائرہ یوسف اپنے علیحدگی کے فیصلے پرخوب سراہا اورانہیں ملکہ قرار دیا اور کہا کہ وہ شہروز سبزواری سے زیادہ بہتر انسان کی حقدارہیں۔سائرہ اورشہروزنے 2012 میں شادی کی تھی اور دونوں کو 6 سالہ بیٹی نورے بھی ہے۔دونوں کے درمیان طلاق 2 ماہ قبل ہوئی اورسوشل میڈیا پر دونوں کی علیحدگی کی وجہ ماڈل و اداکارہ صدف کنول کو قرار دیا جارہا تھا اور لوگوں کا کہنا تھا کہ شہروز اور صدف کنول کے درمیان تعلقات کی وجہ سے سائرہ اور شہروز کے درمیان علیحدگی ہوئی تاہم شہروز سبزواری نے ان افواہوں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے اور صدف کے درمیان کسی قسم کے تعلقات نہیں ہیں۔اس متعلق اداکار شہروز سبزواری کا کہنا تھا کہ صدف سے متعلق بھی کسی کو کچھ بولنے کا حق نہیں ہے کیوں کہ اس سے میری صرف ایک ماہ قبل ہی ملاقات ہوئی تھی اور جھوٹی خبریں پھیلانے والوں کو معافی مانگنی چاہیے کہ کیوں کہ بنا تصدیق کسے کے بارے میں بولنا گناہ ہے۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *