کراچی میں ٹڈی دل کے حملے سے نیشنل اسٹیڈیم میں میچ بھی متاثر

کراچی: (پاکستان فوکس آن لائن)کراچی میں ٹڈی دل کے اچانک حملے کے بعد نیشنل اسٹیڈیم میں جاری قائد اعظم ٹرافی کا میچ بھی زد میں آگیا۔قریب و جوار اور اطراف کے علاقوں کے بعدنیشنل اسٹیڈیم میں بھی ٹڈی دل نے اچانک حملہ کردیا۔ اسٹیڈیم میں ٹڈی دل کے حملے کی وجہ سے سندھ اور نادرن پنجاب کے درمیان قائد اعظم ٹرافی کا میچ روک دیا گیا۔اس وقت نادرن کی بیٹنگ جاری تھی کہ اچانک ٹڈی دل نے حملہ کردیا جس کے بعد خوف سے سہمے ہوئے فیلڈرز ،بیٹسمین اور امپائرز وکٹ کے پاس آ کر جمع ہوگئے۔ چند منٹوں کے بعد ٹڈی دل کے چلے جانے کے بعد سب نے سکون کا سانس لیا اور کھیل دوبارہ شروع ہوگیا۔
گزشتہ روز ٹڈی دل نے کراچی کے علاقے ملیر میں رزعی زمین پر یلغار کی تھی اور کاشتکاروں نے فصل کی تباہی کے خدشے کے پیش نظر حکومت سندھ سے فوری طور پر اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے ٹیکنیکل ایڈوائزر معظم خان کا اس حوالے سے بتانا تھا کہ یہ 1960 کے بعد ٹڈی دل کا کراچی میں پہلا حملہ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ٹڈی دل کو دنیا کا سب سے خطرناک کیڑا تصور کیا جاتا ہے، یہ فصلیں اور درخت سب کچھ تباہ کر دیتا ہے۔آج ٹڈی دل نے کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں بھی یلغار کر دی جہاں قائد اعظم ٹرافی کا میچ کھیلا جا رہا تھا، سیکڑوں کی تعداد میں ٹڈل دل کے نیشنل اسٹیڈیم میں آنے کے باعث میچ کو تھوڑی دیر کے لیے روکنا بھی پڑا۔

کراچی والے ٹڈی دل کی کڑاہی اور بریانی بناکر کھائیں، وزیر زراعت سندھ

دوسری جانب وزیر زراعت سندھ اسماعیل راہو کا کہنا ہے کہ کراچی کے شہری ٹڈی دل سے پریشان نہ ہوں بلکہ کڑاہی اور بریانی بناکر کھاسکتے ہیں۔کراچی میں ٹڈی دل کے حملے پر سندھ کے وزیر زراعت اسماعیل راہو نے ویڈیو بیان جاری کیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ ٹڈی دل کراچی میں رات میں قیام کرکے بلوچستان جارہی ہے، ٹڈی دل نے کراچی کے علاقے ملیر میں کچھ دیر تک قیام کیا تھا، محکمہ زراعت کی ٹیموں نے صبح ملیر کے زرعی علاقوں کا دورہ کیا تھا تاہم ملیر کے کسی بھی علاقے میں ٹڈی دل نے فصلوں کو نقصان نہیں پہنچایا۔وزیر زراعت اسماعیل راہو کا کہنا تھا کہ ٹڈی دل عوام کو نقصان نہیں پہنچاتی لہذا کراچی کے شہری پریشان نہ ہوں، کراچی کے شہری ٹڈی دل سے کڑاہی اور بریانی بناکر کھاسکتے ہیں، ٹڈی دل کراچی کے شہریوں کے پاس چل کر آئی ہے لہذا فائدہ اٹھائیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *