عامر لیاقت نے وزیراعظم سے ملاقات میں استعفیٰ پیش کرنے کا اعلان کردیا

کراچی اور بالخصوص اپنے حلقے کےلوگوں کو بجلی فراہم کروانے سے قاصر ہوں، عامر لیاقت

کراچی: (پاکستان فوکس آن لائن)رکن قومی اسمبلی تحریک انصاف ڈاکٹرعامر لیاقت حسین نے کراچی میں لوڈشیڈنگ ختم نہ ہونے پراستعفیٰ دینے کا فیصلہ کرلیا ، ڈاکٹر عامر نے استعفیٰ دینے کیلئے وزیراعظم سےوقت مانگ لیا ۔تفصیلات کے مطابق ڈاکٹرعامر لیاقت حسین نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پرپیغام میں کراچی میں جاری لوڈشیڈنگ پر بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں اعتراف کرتا ہوں میں کراچی کا ایک بے بس ایم این اے ہوں اوراپنے شہر کے لوگوں کو بجلی فراہم کروانے سے قاصر ہوں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ مجھ سے کراچی اور بالخصوص اپنے حلقے کے لوگوں کا تڑپنا سسکنا اور مونس علوی کے جھوٹ سہنا نہیں دیکھا جاتا ۔ ڈاکٹر عامر لیاقت نے لکھا کہ انہوں نے وزیراعظم سے وقت مانگا ہے اوروہ مل کر انہیں استعفیٰ پیش کریں گے ۔ ڈاکٹر عامر لیاقت نے کہا کہ کراچی کے حالات دیکھیں آج پھر سے وہی حالات ہیں ،کئی علاقوں میں 24 گھنٹوں سے بجلی نہیں ہے ،کراچی کے مختلف علاقوں میں وہی 17-18 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ ہے ، کراچی شہر کے لوگ شدید غصے میں آجائیں تو کیا ہو سکتا ہے ،اگلا سارا ہفتہ بارشوں کا ہے ،کرنٹ لگنے سے پہلے لوگ مر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مقامی قیادت مجھ سے ملتے نہیں ہیں یا وہ مجھ سے ملنا نہیں چاہتے ۔ اس وقت میں بے بس بھی ہوں اور اکیلا بھی ہوں ، آپ نے میرا ایم کیو ایم میں دور دیکھا ہے ایم کیو ایم میرے بغیر چلتی نہیں تھی۔ڈاکٹر عامر لیاقت نے مزید کہا کہ وزیر اعظم سے ہی ساری امیدیں ہیں اور کسی سے نہیں ،میں عمران خان کو ہی دیکھ کر پارٹی میں گیا تھا ،عمران خان میرے لیڈر ہیں ان سے ملوں گا ، انہوں نے کہا کہ امید ہے شاید وزیر اعظم میری بات کو سمجھیں گے۔میں وزیر اعظم سے مل نہیں پا رہا ہو سکتا ہے ملاقات کے بعد حالات بہتر ہو جائیں ۔ ڈاکٹر عامر لیاقت نے مزید کہا کہ وزیر اعظم کی دی ہوئی نشست ان کو شکریہ کیساتھ واپس کر دوں گا ۔خیال رہے کہ کچھ روز قبل گورنر سندھ اور وفاقی وزیر اسد عمر نے کراچی میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خاتمے کا اعلان کیا تھا لیکن اس اعلان کے باوجود تاحال لوڈشیڈنگ کا یہ سلسلہ رک نہیں سکا ہے اور کراچی میں لوڈشیڈنگ سے عوام کی پریشانی برقرار ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *