حزب اختلاف عید کے بعد احتجاج پر متفق

اسلام آباد: (پاکستان فوکس آن لائن) پاکستان میں حزب اختلاف کی تمام سیاسی جماعتوں نے عید کے بعد پارلیمنٹ کے اندر اور باہر حکومت مخالف احتجاج کرنے پر اتفاق کیا ہے۔وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے آج اتوار کو اپوزیشن جماعتوں کے لیے افطار ڈنر کا اہتمام کیا گیا جس کے بعد متحدہ اپوزیشن نے میڈیا کو اپنے فیصلوں سے آگاہ کیا۔
پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول کا کہنا تھا کہ پاکستان کے مسائل اتنے ہیں کہ ایک سیاسی جماعت مل کر حل نہیں کر سکتی۔ انہوں نے بتایا آج فیصلہ کیا گیا ہے کہ مستقبل میں بھی اس قسم کی ملاقاتیں جاری رہیں گی۔ ان کا کہنا تھاکہ سب جماعتیں عید کے بعد پارلیمنٹ کے اندر اور باہر احتجاج کریں گے۔ایک سوال کے جواب میں بلاول بھٹو نے کہا کہ اس ملک کے عوام مہنگائی کے سونامی میں ڈوب رہے ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت کو عوام کی کوئی فکر نہیں۔ اپوزیشن جماعتیں عید کے بعد احتجاج کیلیے مشترکہ حکمت عملی طے کریں گی۔
بلاول نے کہا کہ ہم ایک پیج پر ضرور ہیں لیکن ہمارے سیاسی نظریات بالکل وہی ہیں جو پہلے تھے۔ ہمارے اختلاف ہوں گے لیکن ہم پاکستانی ہیں اور پاکستان خطرے میں ہے۔ انہوں نے کہا ہم کسی کے ساتھ نہیں عوام کی خاطرلڑ رہے ہیں۔


مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کہا کہ آج بلاول سے پہلی ملاقات نہیں ہے۔ کلثوم نواز کی وفات پر بھی بلاول رائیونڈ آئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلاول نوازشریف سے ملنے جیل گئے تو میں نے بھی خلوص نیت سے ان کی افطار دعوت قبول کی۔مریم نواز نے کہا کہ ہم سیاسی حریف ہیں لیکن ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں خلوص نیت سے شامل ہوتے ہیں۔ ن لیگ کی نائب صدر نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ چارٹرآف ڈیمیوکریسی کا پاکستان کو یہ فائدہ ہوا کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار دو سیاسی جماعتوں نے اپنی مدت پوری کی۔ن لیگ نے ووٹ کی عزت کرتے ہوئے پیپلزپارٹی کو پانچ سال مکمل کرنے دیے اور پیپلزپارٹی نے بھی ن لیگ کو اقتدار منتقل کیا۔ انہوں نے کہا کہ ن لیگ اور پی پی سیاسی حریف رہے ہیں اور سیاسی میدان میں مقابلہ کرتے ہیں لیکن باتوں کو وہاں تک نہیں لے جانا چاہیے کہ واپسی کا راستہ نہ رہے۔
سابق وزیراعظم شاہدخاقان عباسی نے کہا کہ پارلیمان میں بات کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ پارلیمان میں زبان بندی ہوگی تو بات سڑکوں پر کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ آج کا ہدف حکومت گرانا نہیں ہے، معیشت کو سنبھالنا، عوام کو مشکلات سے نکالنا اور ان کے مسائل حل کرنا ہے جس میں یہ حکومت ناکام ہو چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ حکومت ہر طرح سے گری ہوئی حکومت ہے اسے گرانے کی ضرورت نہیں۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ اجلاس میں اتفاق ہوا ہے کہ حکومت ملک چلانے اور مسائل حل کرنے میں ناکام ہوچکی اور سب کچھ داؤ پر لگ چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ احتساب کے نام پر اپوزیشن کو دبانہ آمریت کا حصہ تھی آج یہ جمہوریت کا حصہ بن چکی ہے ہم اسے بھی بھگت لیں گے۔انہوں نے بتایا کہ عید کے بعد ایک آل پارٹی کانفرنس ہوگی جس میں آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ نااہل لوگوں کے اقتدار میں آنے سے ملک کی کشتی ایسے سمندر میں جا پڑی جسے سنبھالنا ہمارا فرض بن گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی دنیا میں کمزور ترین ملک کے طور پر متعارف ہو رہے ہیں، سات ماہ میں ملک گہرے سمندر میں جاپڑا ہے۔انہوں نے کہا کہ عید کے بعد تمام سیاسی جماعتیں احتجاج پر متفق نظر آرہی ہیں۔ عید کے بعد آل پارٹی کانفرنس ہوگی جس میں آئندہ کیلیے حکمت عملی طے کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ متحدہ اپوزیشن نے مستقبل کیلیے خاکے کا تعین کرلیا ہے۔ اب ہم اس قابل ہوں گے اپنے ملک اور ایک ہی مقصد کیلئے میدان میں آئیں۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں ملک کا معاشی بحران، آئی ایم ایف کا قرضہ اور آسمان سے باتیں کرتی مہنگائی سمیت دیگر امور بھی زیرغور آئے۔بلاول بھٹو زرداری اور مریم نواز کے درمیان آج افطار ڈنر پر ملاقات ہوئی جس میں حزب اختلاف کے اہم رہنماؤں نے شرکت کی۔ ذرائع کے مطابق ملاقات میں حکومت کے خلاف تحریک چلانے کے حوالے سے مشاورت ہوئی، قومی احتساب بیورو کی کارروائیوں کی بھی مذمت کی گئی۔زرداری ہاؤس میں ہونے والے اس اجلاس میں مریم نواز شریف، شاہد خاقان عباسی، حمزہ شہباز، لیاقت بلوچ، زاہد خان، آفتاب شیر پاؤ، حاصل بزنجو، جہانزیب جمالدینی، رضا ربانی، شیری رحمان، نیر بخاری اور فرحت اللہ بابر سمیت اہم سیاسی رہنماؤں نے شرکت کی۔ مسلم لیگ نون کے رہنما حمزہ شہباز اور مریم نواز پہلی مرتبہ زرداری ہاؤس اسلام آباد کے مہمان بنے۔اپوزیشن اجلاس میں سربراہ جے یو آئی ف مولانا فضل الرحمان نے شرکا کو اپنی جماعت کی حکومت مخالف تحریک کے بارے میں آگاہ کیا۔مریم نواز پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے افطار ڈنر میں شرکت کے لیے اسلام آباد پہنچیں۔ وہ اپنے شوہر کیپٹن صفدر کے ہمراہ پہنچیں جنہوں نے ان کی گاڑی چلائی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *