بھارتی افسر نے اعلان بغاوت کردیا

مودی حکومت کے کشمیرمیں غیر آئینی اقدامات پر استعفٰی دینے والے انڈین ایڈمنسٹریٹو سروس افسر ’کنن گوپی ناتھن‘ نے اعلان بغاوت کردیا۔بھارتی ایڈمنسٹریٹو سروس افسر کنن گوپی ناتھن نے کہا کہ کسی بھی جمہوریت میں عوام سےاحتجاج کا حق نہیں چھینا جاسکتا۔ انہیں مقبوضہ کشمیر کے عوام پر لگائی گئی اظہار رائے کی پابندی قبول نہیں ہے۔ بھارتی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کنن گوپی ناتھن نے کہا کہ اگر ادارے تباہ ہونے لگیں توکسی نہ کسی کو آواز اٹھانی ہوتی ہے، جمہوریت میں آزادی اظہار کے بغیر زندگی کا کوئی مطلب نہیں، مقبوضہ کشمیر میں ممکنہ تشدد کے نام پر آزادی اظہار پر لگائی گئی پابندی کل بھارت کے کسی بھی حصے میں لگائی جاسکتی ہے۔ایک اور ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کنن نے سوال اُٹھایا کہ اگر کل دہلی میں شہریوں کو حاصل حقوق سلب کرلیے جائیں تو کیا ہوگا؟ عوام چاہےخوش ہوں یا ناراض اظہار رائے کی آزادی سلب نہیں کی جاسکتی۔کنن گوپی ناتھن کا کہنا تھا کہ انسانی جانیں بچانےکے نام پر لگائی گئی پابندیاں محض فریب ہیں، کیا کسی کو یہ کہہ کر جیل میں بند کیا جاسکتا ہے کہ یہ اس کی جان بچانے کے لیے کیا جارہا ہے۔

ویڈیو دیکھئے

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *