وزیراعظم او آئی سی کے 14ویں سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے

اسلام آباد: (پاکستان فوکس آن لائن) وزیر اعظم عمران خان اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی)کے 14ویں سربراہ اجلاس میں شرکت کریں گے۔او آئی سی کا سربراہ اجلاس 31 مئی کو سعودی عرب کے شہر مکہ مکرمہ میں منعقد ہو رہا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیاہے کہ وزیر اعظم عمران خان اپنے خطاب میں اتحاد امت اور درپیش چیلنجز پر توجہ مرکوز رکھیں گے۔ وزیر اعظم امت مسلمہ کے مشترکہ مقاصد اور مسائل بشمول کشمیر اور فلسطین پر بھی بات کریں گے۔ ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان اسلامی ممالک کے درمیان تعلیم اور ریسرچ کے شعبے میں تعاون کو فروغ دینے پر بھی زور دیں گے۔ترجمان کے مطابق 2019 او آئی سی کے قیام کا 50 واں سال ہے۔او آئی سی اقوام متحدہ کے بعد دنیا کو دوسرا بڑا فورم ہے۔بانی رکن ہونے کی وجہ سے پاکستان او آئی سی کا متحرک ترین رکن بھی ہے۔ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل کے مطابق او آئی سی نے اپنے اعلامیوں اور قراردادوں کے ذریعے ّکشمیر پر پاکستان کے موقف کی ہمیشہ حمایت کی ہے۔ سربراہ اجلاس سے قبل آج وزرائے خارجہ کونسل کا اجلاس ہوگا جس میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔
ترجمان کے مطابق وزیر خارجہ کشمیر کے حوالے سے او آئی سی رابطہ گروپ اجلاس میں بھی شرکت کریں گے۔کشمیر رابطہ گروپ کے اجلاس میں کشمیر کی جاری صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا۔اسلامی ممالک کی تعاون تنظیم (او آئی سی )کی وزرائےخارجہ کونسل کا اجلاس آج سعودی عرب میں ہورہاہے ، پاکستان کی نمائندگی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کرینگے اور اس اہم اجلاس میں باہمی مشاورت سے اسلامی سربراہی کانفرنس کے مسودہ “مکہ اعلامیہ” کو حتمی شکل دی جائے گی۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی گزشتہ روز سعودی عرب پہنچے تھے ۔جدہ کے کنگ عبدالعزیز انٹرنیشنل ائرپورٹ کے رائل ٹرمینل پر سعودی وزارت خارجہ کے چیف آف پروٹوکول جمال ناصر، پاکستان کے سعودی عرب میں سفیر راجہ علی اعجاز اور جدہ قونصلیٹ میں تعینات پاکستان کے قونصل جنرل شہریار اکبر خان نےوزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا استقبال کیا، اس موقع پر سعودی رائل پروٹوکول کے حکام بھی موجود تھے۔اسلامی سربراہی کانفرنس کے ساتھ ساتھ او آئی سی کے رابطہ گروپ برائے کشمیر کا اجلاس بھی متوقع ہے جو کہ خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *