وفاقی کابینہ کا اجلاس: وزیراعظم نے روٹی کی قیمت بڑھنے کا نوٹس لے لیا

اسلام آباد: (پاکستان فوکس آن لائن)وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا، جس میں 9 نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا ۔
وفاقی کابینہ کے اجلاس میں طیارہ حادثے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر اظہار افسوس کیا گیا جبکہ شمالی وزیرستان اور بلوچستان میں شہید پاک فوج کے جوانوں کے درجات کی بلندی کیلئے دعا کی گئی۔ اجلاس میں افغانستان سے حملوں کے بعد کی صورتحال کا جائزہ بھی لیا گیا۔بتایا گیا ہے کہ وفاقی کابینہ نے عمرا ن ناصر کو ایم ڈی پاسکو تعینات کردیا ہے۔
وفاقی تعلیم کے 12 محکمے وزارت انسانی حقوق کو منتقل کرنے کی منظوری دے دی گئی۔ کابینہ نے فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ اتھارٹی کے قیام اورسول ایوی ایشن اتھارٹی کے سروسزاور ریگولیشن کے محکمے الگ کرنے کی منظوری بھی دے دی گئی ہے۔اسی طرح عارف احمد خان کوچیئرمین ٹریڈ ڈویلپمنٹ بنا دیا گیا۔جبکہ رانا عبدالجبار کو متبادل توانائی ترقیاتی بورڈ تعینات کیا گیا ہے۔خواتین سے متعلق قومی کمیشن کی چیئرپرسن کی تقرری بھی ایجنڈے کا حصہ ہے جبکہ اسلام آباد کے ماسٹر پلان کے لئے بنائے وفاقی کمیشن پر بھی بات چیت کی گئی۔ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ کابینہ اجلاس میں بے نامی انفارمیشن پروسیسنگ کمیٹی پر غور بھی کیا گیا۔
اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے نان اور روٹی کی مہنگی کرنے کانوٹس بھی لے لیا ہے۔ انہوں نے روٹی اور نان کی قیمتوں میں اضافے پر اظہار برہمی کیا۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ نان اور روٹی کی قیمت میں اضافے کی کیا وجوہات ہیں؟ گیس اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا تندوروں پرکتنا اثر پڑاہے۔ وزیراعظم عمران خان نے روٹی کی قیمتوں میں اضافے کی وجوہات جاننے کے لیے ہنگامی اجلاس طلب کرلیا۔وزیراعظم عمران خان نے روٹی مہنگی ہونے کے مسئلے پر پیٹرولیم ڈویژن، وزارت غذائی تحفظ اور دیگر اداروں کے وزرا اور افسران کو طلب کرلیا ہے۔اجلاس میں وزیراعظم کو بریفنگ دی جائے گی کہ فلور ملز مالکان کتنا منافع لے رہے ہیں اور بنیادی انسانی ضرورت روٹی مہنگی ہونے میں ان کا کیا کردار ہے۔ وزیراعظم کو گیس کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات سے بھی آگاہ کیا جائے گا۔
وزیراعظم کا اجلاس میں کہنا تھا کہ میں غریبوں کو گھروں کی سہولت فراہم کرنے میں بہت سنجیدہ ہوں، سلمز میں بلڈنگ کے بعد باقی اراضی کا کمرشل استعمال کیا جانا چاہیے۔ اسلام آباد کی کچی آبادیوں میں بھی اپارٹمنٹس بنانے کا پلان ترتیب دیا جائے۔ وزیراعظم نے کراچی میں بارشوں کی وجہ سے نقصانات پر اظہار تشویش کیا اور کہا کہ سندھ حکومت کو اربوں روپے دئیے لیکن عوام کو سہولیات نہیں ملیں، کراچی میں سیوریج اور صفائی کا نظام نہ ہونے سے عوام کی زندگی اجیرن ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *