عمران فاروق قتل کیس: برطانیہ پاکستان کو شواہد دینے کیلئے رضامند

اسلام آباد: (پاکستان فوکس آن لائن) ایم کیو ایم پاکستان کے بانی رہنما ڈاکٹرعمران فاروق قتل کیس میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔ برطانیہ پاکستان کو شواہد دینے کے لیے رضامند ہوگیا ہے، برطانوی سنٹرل اتھارٹی کی منظوری کا لیٹر اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش کردیا گیا۔
اس حوالے سے پاکستانی حکومت کے وکیل ٹوبی کیڈمین نے ڈان کو بتایا کہ انہوں نے یہ ثبوت اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کروادیے تھے۔ساتھ ہی انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما کے قتل کی تحقیقات سے متعلق ثبوت فراہم کرنے کے لیے پاکستان نے باہمی قانونی معاونت (ایم ایل اے) کے لیے درخواست کی تھی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیف جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل ڈویژنل بنچ نے ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس کی سماعت کی ۔عدالت نے عمران فاروق قتل کیس میں شواہد پیش کرنے کے لیے مزید مہلت نہ دینے کا ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیاہےٹرائل کورٹ نے مزید شواہد جمع کرانے کے لیے ایف آئی اے کی استدعا مسترد کردی تھی۔
عدالت عالیہ نے حکم دیا ہے کہ شواہد آنے کے بعد دو ماہ میں ٹرائل مکمل کیا جائے۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل ساجد الیاس بھٹی نے عدالت کو آگاہ کیا کہ برطانیہ کی سنٹرل اتھارٹی نے پاکستان کی درخواست منظور کرلی ہے،برطانیہ پاکستان کو شواہد دینے کے لیے رضامند ہوگیا ہے۔عدالت نے ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس میں شواہد پیش کرنے کے لیے مزید مہلت نہ دینے کا ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے ایف آئی اے کی درخواست نمٹا دی ۔
واضح رہے کہ 30مئی کو انسداد دہشتگردی عدالت اسلام آباد نے ڈاکڑ عمران فاروق قتل کیس میں وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کو برطانیہ سے حاصل کردہ شواہد پیش کرنے کے لیے مزید وقت نہ مل سکا، ایف آئی اے کی لندن سے مزید شواہد کے حصول کے لیے دو ماہ کا وقت دینے کی درخواست مسترد کردی گئی ۔اسلام آباد کی انسداد دہشتگردی عدالت کے جج شاہ رُخ ارجمند نے ایف آئی اے کی درخواست پر فیصلہ سنا دیا۔عدالت نے ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس میں 20 جون کو حتمی دلائل طلب کرلئے۔ عدالت کی طرف سے کہا گیا کہ حتمی دلائل کے بعد فیصلہ سنایا جائے گا۔عدالت استغاثہ کے گواہوں کے بیانات پہلے ہی ریکارڈ کرچکی ہے۔واضح رہے کہ ڈاکٹر عمران فارق قتل کیس میں مجسٹریٹ کے رو برو اعتراف جرم کرنے والے دونوں ملزمان اپنے بیان سے منحرف ہو گئے ہیں۔ملزم خالد شمیم نےرواں سال اپریل میں عدالت کو دیے گئے بیان میں کہا تھا کہ بیان قلمبند کرنے سے پہلے اسے خوف کے سائے میں رکھا گیا۔ مجسٹریٹ کے رو برو بیان قلم بند کرنے سے پہلے تشدد کا نشانہ بنایا گیا ۔ملزم خالد شمیم نے عدالتی بیان میں کہا کہ مجسٹریٹ نے میری مرضی کے خلاف تفتیشی افسر کی ہدایت پر بیان ریکارڈ کیا۔
کیس کے دوسرے اور اہم ملزم محسن علی بھی اپنے اعترافی بیان سے مکر گیاگیاہے۔ملزم محسن علی نے کہا کہ اس نے مجسٹریٹ کو کوئی اعترافی بیان نہیں دیا۔ذہنی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بننے کے باوجود اعترافی بیان دینے سے انکار کیا۔ملزم محسن علی نے کہا کہ مجسٹریٹ کو ذہنی اور جسمانی تشدد سے متعلق شکایت بھی کی۔پہلے سے تیار اعترافی بیان پر مجسٹریٹ نے دستخط کیے اور مہر لگائی۔ ملزمان کے دفعہ 342 کے بیانات انسداد دہشتگردی اسلام آباد کی عدالت میں جمع کرادیے گئے ہیں۔ بیان ملزمان کے وکلاء نے انسداد دہشتگردی کی عدالت میں جمع کرائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *