امریکا کی خامنہ ای اور ایرانی وزیر خارجہ پر پابندی: ایران کا رد عمل

تہران: (پاکستان فوکس آن لائن)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر نئی اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کے قریب امریکی ڈرون مار گرائے جانے کے ردعمل میں ایران پر نئی پابندیاں عائد کی ہیں جن کے تحت ایران کے بعض اعلیٰ حکام بین الاقوامی بینکاری نظام استعمال نہیں کرسکیں گے خصوصا یورپ سمیت دیگر ممالک کے مالیاتی اداروں سے کسی طرح کا لین دین نہیں کرسکیں گے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سخت پابندیوں کے حکم نامے پر دستخط کر دیے ہیں اور ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای پر بھی ان پابندیوں کا نفاذ کیا گیا ہے۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے والی پالیسیوں کے ذمہ دار خامنہ ای ہیں، امریکا ایران پر دباؤ میں اضافہ کرتا رہے گا اور تہران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر پائے گا، تاہم اگر ایران کی جانب سے بہتر ردعمل کا مظاہرہ کیا گیا، تو پابندیاں فوری طور پر ختم بھی کی جا سکتی ہیں۔نیویارک ٹائمز کے مطابق ان پابندیوں کی حیثیت علامتی ہی ہے کیونکہ ایران اور اس کے حکام پہلے ہی بین الاقوامی بینکوں میں اپنے اثاثے نہیں رکھتے اور عالمی مالیاتی اداروں کے ذریعے لین دین سے گریز کرتے ہیں۔ اس لیے نئی پابندیوں سے انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔
دوسری جانب ایران نے امریکا کی جانب سے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای اور وزیر خارجہ جواد ظریف پر پابندیاں کیے جانے کی مذمت کی ہے۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان عباس موسوی کا کہنا ہے کہ امریکی پابندیوں کی وجہ سے ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی راستہ مکمل طور پر بند ہوگیا ہے۔ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے کہا کہ سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای اور وزیر خارجہ جواد ظریف کے خلاف پابندیاں بے نتیجہ ہیں، ٹرمپ منتظمین عالمی سطح پر قائم امن اور سیکیورٹی کو تباہ کر رہے ہیں۔امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ چند ہفتوں کے دوران کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔امریکی مشیر قومی سلامتی جان بولٹن نے مقبوضہ بیت المقدس کے دورے پر اپنے بیان میں کہا کہ امریکی صدر نے حقیقی مذاکرات کے لیے دروازہ کھلا رکھا ہے تاہم مذاکرات کے جواب میں ایرانی خاموشی قابل غور ہے۔ایرانی صدر حسن روحانی نے بھی امریکی مشیر قومی سلامتی کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کے مطالبے کے بعد کیا وزیر خارجہ پر پابندیاں عائد کی جاتی ہیں، پابندیوں سے ظاہر ہے کہ امریکا جھوٹ بول رہا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق ایران کی جانب سے امریکی فوجی ڈرون گرائے جانے کے بعد ایران پر مزید پابندیاں عائد کی ہیں، جبکہ امریکی صدر نے ایران پر دباؤ جاری رکھنے اور ایران کو کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے دینے کا عندیہ بھی دیا۔یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے ساتھ جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے معاہدے کو یک طرفہ طور پر منسوخ کرنے کے بعد سے ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *