کشمیر آور : اسلام آباد کے تمام چوراہوں پر 12 بجے ٹریفک سگنل ریڈ کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد: (پاکستان فوکس آن لائن)وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں مقبوضہ کشمیر کے عوام سے اظہار یکجہتی کے لیے ’ کشمیر آور ‘ کے دوران شہر کے تمام چوراہوں پر ٹریفک سگنل 12 بجے ریڈ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
انتظامیہ کی جانب سے حکم جاری کیا گیا ہے کہ کشمیر آور کے دوران سگنل آدھے تک ریڈ رہے گا اور ٹریفک رکی رہے، اس حوالے سے ٹریفک پولیس کو بھی آگاہ کردیا گیا ہے۔کشمیر آور کے دوران اشاروں اور شاہراہوں پر مقبوضہ کشمیر کے عوام سے اظہار یکجہتی کے لیے احتجاج کیا جائے گا۔علاوہ ازیں ضلعی انتظامیہ کے زیر انتظام مرکزی اجتمام ڈی چوک پر ہوگا جہاں تمام سرکاری دفاتر کا عملہ جمع ہو کر اظہارِ یکجہتی کرے گا جبکہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے وزرا اور مقامی قائدین بھی ڈی چوک پر جمع ہوں گے۔
کشمیر آور کے آغاز پر 12 بجے سائرن بجائیں جائیں گے اور قومی ترانہ پڑھا جائے گا جس کے بعد کشمیر کا ترانہ بھی پڑھا جائے گا۔خیال رہے کہ 26 اگست کو قوم سے خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے ’ کشمیر آور ‘ منانے کا اعلان کیا تھا۔عمران خان نے کہا کہ ہر ہفتے میں ایک دن پوری قوم، ہمارے اسکولز، یونیورسٹیز اور دفاتر جانے والے افراد ایک آدھے گھنٹے کے لیے نکلیں گے اور کشمیریوں کے حق میں آواز اٹھائیں گے جس سے متعلق آگاہ کیا جاتا رہے گا۔انہوں نے کہا تھا کہ اس جمعے ( 30 اگست کو) دوپہر 12 سے 12:30 تک جہاں بھی ہوں کام روک کر آدھا گھنٹہ عوام کے ساتھ نکلیں اور بتائیں کہ ہم کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ 27 ستمبر کو اقوام متحدہ کے اجلاس تک ہم دنیا کو بتانا ہے کشمیریوں کے ساتھ کیا ظلم ہورہا ہے اور کشمیریوں کو یہ بتانا ہے کہ ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔
گزشتہ روز ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ حکومت کے اعلان کے مطابق پورے ملک میں دوپہر 12بجے سائرن بجائے جائیں گے جبکہ قومی ترانہ اور کشمیر کا ترانہ بھی بجایا جائے گا۔انہوں نے کہا تھا کہ پوری قوم اپنے اپنے علاقے اور کام کی جگہ پر جمع ہو اور کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا جائے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے ملکی ہیروز، شوبز اور میڈیا کے نمائندوں کے ساتھ ساتھ طلبا کو بھی اس میں بھرپور انداز میں شرکت کی اپیل کی تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *