خفیہ سرکاری دستاویزات افشا: امریکا، افغانستان میں جنگ ہار رہا ہے

واشنگٹن:(پاکستان فوکس آن لائن) امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے خفیہ سرکاری دستاویزات کا حوالہ دیتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ ‘امریکا، افغانستان میں واضح اہداف نہ ہونے کی وجہ س سے جنگ ہار رہا ہے۔
راچی (نیوز ڈیسک) امریکی حکومت کی خفیہ دستاویزات میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اعلیٰ امریکی حکام افغانستان میں 18 سال سے جاری جنگ کے حوالے سے سچائی بتانے میں ناکام رہے، واشنگٹن پوسٹ کی جانب سے حاصل کی گئی سرکاری دستاویزات کے مطابق امریکی حکام جھوٹے دعوے کرتے رہے اور ان ناقابل تردید شواہد کو جان بوجھ کر چھپاتے رہے کہ اس جنگ کو جیتا نہیں جاسکتا۔ یہ دستاویزات امریکا کی تاریخ میں طویل ترین جنگ میں ناکامی کی اصل وجوہات جاننے کے لئے قائم ایک وفاقی پراجیکٹ نے جاری کی ہیں۔ ان دستاویزات میں افغان جنگ میں براہ راست کردار ادا کرنے والے افراد کے انٹرویوز بھی شامل ہیں جن میں جنرلز سے لیکر سفیروں، امدادی کارکن اور افغان حکام بھی شامل ہیں، 2 ہزار صفحات پر مشتمل یہ نوٹس پہلے شائع نہیں کئے گئے ۔ امریکی حکومت نے انٹرویوز دینے والے بیشتر افراد کی شناخت چھپائی ہے اور ان کے ریمارکس کو تقریباً منسوخ کردیا ہے۔ واشنگٹن پوسٹ نے یہ دستاویزات تین سالہ قانونی جنگ کے بعد فریڈم آف انفارمیشن ایکٹ کے تحت شائع کی ہیں۔ امریکی محکمہ دفاع کے اعدادوشمار کے مطابق افغانستان میں 2001 کے بعد سے امریکا کے 7 لاکھ 75 ہزار فوجی تعینات کئے گئے جن میں سے کئی افراد کی تعیناتیاں بار بار کی گئیں۔ ان میں سے 2300 فوجی مارے گئے جبکہ 20 ہزار 589 فوجی جنگی
کارروائیوں کے دوران زخمی ہوئے۔ دستاویزات کے مطابق امریکی حکام متواتر طور پر یہ کہتے رہے کہ وہ افغانستان میں پیش رفت کررہے ہیں تاہم ایسا نہیں تھا اور وہ یہ بخوبی جانتے تھے۔امریکا کے صدور، فوجی کمانڈرز اور سفیر عوامی سطح پر یہی بیانات دیتے رہے کہ وہ افغانستان میں پیش رفت کررہے ہیں اور یہ جنگ لڑی جاسکتی ہے۔ اس حوالے سے انٹرویوز میں انکشاف ہوا کہ امریکی حکومت جان بوجھ کر عوام کو گمراہ کررہی تھی۔ انٹرویوز میں بتایا گیا کہ کابل میں فوجی ہیڈکوارٹرز اور وائٹ ہائوس کا یہی بیانیہ رہا کہ انہوں نے جنگ میں امریکا کی فتح ظاہر کرنے کے لئے گمراہ کن اعدادوشمار پیش کئے تاہم ایسا نہیں تھا۔ ایک سابق امریکی جنرل باب کرولی نے بتایا کہ حقائق کو ہمیشہ توڑ مروڑ کر پیش کیا جاتا تھا تاکہ ایک اچھی صورت پیش کی جاسکے۔ باب کرولی امریکی فوجی کمانڈرز کے لئے 2013 سے لیکر 2014 تک انسداد شدت پسندی کے مشیر بھی رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے سرویز بالکل بھی قابل اعتبار نہیں تھے لیکن ہم لوگ جو کررہے تھے وہ بالکل درست تھا اور ہم صرف اپنی ترویج میں مصروف رہتے۔ امریکی وفاقی ایجنسی کے سربراہ جان سوپکو جنہوں نے انٹرویوز کئے نے واشنگٹن پوسٹ کی اس بات کی تصدیق کی کہ امریکی عوام سے متواتر طور پر جھوٹ بولا جاتا رہا۔ دستاویزات کے مطابق امریکا سابق صدور بغیر کسی حکمت عملی کے افغان جنگ میں پھنس گئے۔ افغان جنگ کے حوالے سے سابق صدر بش اور اوباما دونوں کی حکمت عملی یکسر مختلف تھی۔ دستاویزات کے مطابق امریکی حکام اس بات کا عزم کرتے تھے کہ وہ اپنی قوم کی تعمیر کریں گے تاہم انہوں نے اربوں ڈالر افغان جنگ میں ضائع کردیے ۔ امریکا نے ایک ایسے ملک میں سرمایہ کاری کی جہاں کرپشن کی بھرمار رہی ۔ امریکا نے افغانستان میں اربوں روپے ضائع کئے اور وہاں ہونے والی کرپشن پر آنکھیں بند رکھیں۔ دستاویزات میں افغان سیکورٹی فورسز کی اہلیت پر بھی سوالات اٹھائے گئے اور انکشاف کیا گیا کہ کئی سالوں کی تربیت کے باوجود افغان فورسز کو لڑنے کے قابلبنایا جاسکا اور نہ ہی ان میں موجود کرپشن کو ختم کیا جاسکا ۔ دستاویزات کے مطابق امریکا افغانستان میں منشیات کا خاتمہ کرنے میں بھی کامیاب نہ ہوسکا اور ہر موڑ پر اس میں اضافہ ہی ہوا ۔ بش اور اوباما دور میں امریکا کے ایک سابق تھری اسٹار جنرل ڈوگلاس لیوت نے انٹرویوز کرنے والوں کو 2015 میں بتایا تھا کہ ہمیں اس سے محروم رکھا گیا کہ بنیادی طور پر افغانستان میں کیا کرنا ہے، ہمیں یہ معلوم ہی نہیں تھا کہ ہم افغانستان میں کیا کررہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کیا امریکی عوام اس حقیقت سے آشنا ہوسکیں گے کہ افغانستان میں ہمارے 2 ہزار 400 افراد مارے جاچکے ہیں، انہوں نے امریکی فوجیوں کے قتل کا مورد الزام کانگریس کے بیوروکریٹس، پینٹاگون اور محکمہ خارجہ کو ٹہرایا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *