ملک کو نقصان پہنچانے والا کہتا ہے علاج کیلئے باہر جانا ہے: وزیراعظم عمران خان

ملک مقروض، این آر او دیا تو عوام اور اللہ سے بے وفائی کروں گا:وزیراعظم

مہمند: (پاکستان فوکس آن لائن)وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ چوری کر کے ملک کو نقصان پہنچانے والا کہتا ہے کہ مجھے علاج کے لیے بیرون ملک جانا ہے اور ان کا ایک ہی مقصد این آر او لینا، اگر انہیں این آر او دیا تو یہ قوم سے غداری ہوگی۔مہمند ڈیم کے سنگ بنیاد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ملک تباہ ہوتا ہی تب ہے جب ملک کا سربراہ چوری کرتا ہے، عام آدمی کی چوری سے صرف انفرادی نقصان ہوتا ہے، ان کا ایک ہی مقصد این آر او لینا ہے، اگر انہیں این آر او دیا تو یہ قوم سے غداری ہوگی۔ وزیراعظم عمران خان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا سابق چیف جسٹس کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، ڈیم بنانا حکومت کا کام ہے، سابق چیف جسٹس نے مسئلہ اٹھایا، ماضی میں حکومتیں ملک سے متعلق سوچنے میں ناکام رہیں۔ انہوں نے کہا پاک فوج نے بڑی جنگ لڑی ہے، خراج تحسین پیش کرتا ہوں، قیام امن پر پاک فوج کو سلام پیش کرتا ہوں، امن کے بغیر ملک میں خوشحالی نہیں آسکتی، امن کے بغیر ملک میں سرمایہ کاری بھی ممکن نہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ ان پر الزام پہلے سے لگے ہوئے ہیں اور کہتے ہیں انتقامی کارروائی ہو رہی ہے، اگر آپ لیڈر ہیں تو کرپشن کے الزامات پر جواب دیں، صفائی پیش کرنےکی بجائے چوری بچانے کے لیے پارلیمنٹ اور جمہوریت خطرے میں ہے کی بات کرتے ہیں۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ 10 سال میں ملک کا قرضہ 6 ہزار سے 30 ہزار ارب پہنچ گیا، حکومت کا کام اپنے لوگوں کی بہتری ہے، کرسی کو بچانے کی کوشش کرنے والا کبھی کامیاب نہیں ہوتا، تاریخ میں ہمیشہ ٹیم کو بچانے والے بڑے کپتان ثابت ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ملک کے کئی علاقے پیچھے رہ گئے جن میں قبائلی علاقے بھی شامل ہیں، این ایف سی ایوارڈ میں صوبے اپنے حصے سے 3 فیصد قبائلی علاقوں کو دیں گے، کئی صوبے اپنا حصہ دینے پر گھبرا رہے ہیں تاہم این ایف سی ایوارڈ سے حصہ دلانے کیلیے تمام صوبوں کو راضی کر لیں گے۔
عمران خان کا کہنا تھا سرمایہ کاری شروع ہونے پر بیروزگاری ختم ہوگی، سسٹم کو نقصان پہنچانے والے کہتے ہیں کہ جمہوریت بچا رہے ہیں، 60 کی دہائی میں ہم سب ممالک سے آگے جا رہے تھے، ترقی کرنے میں چین کی مثال نہیں، چین نے آئندہ 20 سال کی تیاری کی ہوئی ہے، چین صرف الیکشن کی تیاری کا نہیں سوچتا۔ انہوں نے کہا چین انتخابات کی تیاری نہیں کرتا، دور کی سوچتا ہے، ہم نے چین کی طرح ملک کو ترقی دینی ہے، سی پیک کے ذریعے ترقی کا بہت بڑا موقع ملا ہے۔وزیراعظم نے مزید کہا کہ چین نے 30 سال میں 70 کروڑ لوگوں کو غربت سے نکالا، انسانی فلاح کا نظریہ ریاست مدینہ سے شروع ہوا، مہمند پر ساڑھے 4 ارب روپے خرچ کیا جائے گا، جس علاقے سے گیس نکلتی ہے وہاں کے لوگوں کو فائدہ نہیں۔ انہوں نے کہا کوشش ہے افغانستان میں امن آئے، افغانستان میں امن سے تجارت بڑھے گی، افغانستان کیساتھ راستے کھولنے کا مطالبہ پورا کروں گا، فور جی اور تعلیمی اداروں کے مطالبے بھی پورے کریں گے، این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں نے قبائل کو حصہ دینے کا طے کیا تھا، سب کو مل کر قبائل کی مدد کرنی چاہیئے۔عمران خان نے کہا کہ سسٹم کو نقصان پہنچانے والے جمہوریت کی آڑ لیتے ہیں، کرسی بچانے کی کوشش کرنیوالا لیڈر کبھی کامیاب نہیں ہوتا، کامیاب لیڈر اپنے نظریے پر قائم رہتا ہے، ہم ملک میں قانون کی بالادستی چاہتے ہیں، آپ پر کوئی الزام لگتا ہے تو جواب دیں۔ انہوں نے کہا سابق چیف جسٹس نے مجھ سے گھر کے متعلق سوال پوچھا، میں نے ایک سال میں 60 دستاویزات پیش کیں، ملک میں طبقاتی قانون ختم کرنا ہے، یہ لوگ ایسے ہاتھ ہلاتے ہیں جیسے کشمیر فتح کر کے آئے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *