اگر کوئی پاکستان سےمقبوضہ کشمیر میں داخل ہوا تو وہ کشمیریوں کا دشمن ہوگا، وزیراعظم

طورخم: (پاکستان فوکس آن لائن) وزیراعظم عمران خان نے دوٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر کوئی کشمیرمیں داخل ہوا تو وہ پاکستان اور کشمیریوں کا دشمن ہوگا۔ اس سے بھارت کو موقع ملے گا، وہ کہے گا پاکستان سے دہشت گرد داخل ہوئے۔
طورخم بارڈر کے افتتاح کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ تجارت میں اضافے سے روزگار مہیا ہوگا اور علاقے میں خوشحالی آئے گی۔ افغانستان میں امن سے خطے میں ترقی ہوگی طورخم بارڈر سے افغان عوام کی معاشی حالت بدلے گی۔
وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ اس وقت بھارتی حکومت پر شدید دباوَ ہے، پاکستان سے جاکر بھارت جاکر لڑنے والا پاکستان اور کشمیریوں دونوں کا دشمن ہوگا کیونکہ بھارتی حکومت کو مقبوضہ کشمیر میں صرف بہانہ چاہیے، بھارتی حکومت پہلے ہی کہہ رہی ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں پاکستان دہشت گردی کررہا ہے۔ بھارت کا مسئلہ ہے کہ اس پر قبضہ ہوگیا ہے، بھارت کی بدقسمتی ہے کہ انتہاسند ہندوؤں نے قبضہ کرلیا ہے۔ آر ایس ایس کی پالیسی پاکستان اور مسلمانوں کے خلاف ہے۔ موجودہ صورتحال میں مودی سرکار کے ساتھ مذاکرات نہیں ہوسکتے۔
وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے جس ملک میں اپوزیشن کا نظریہ نہ ہو اس ملک میں جمہوریت صحیح معنوں میں نہیں چلتی، اپوزیشن کا ایک نکاتی ایجنڈا ہے کہ انہیں این آراو دیا جائے، پہلے دن سے اپوزیشن نے مجھے پارلیمنٹ میں تقریر کرنے نہیں دی۔ جو مرضی ہوجائے ہم انہیں این آر او نہیں دیں کیونکہ ان کی لوٹ مار کی وجہ سے آج ملک میں مہنگائی ہے، روپے کی قدر میں اضافہ ہوا۔ دونوں سیاسی جماعتوں کے باعث ملک خسارے میں ہے، مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے اپنے دور میں خوب لوٹ مار کی، دونوں جماعتوں نے ایک دوسرے کے خلاف کیس بنائے، منی لانڈرنگ کرنے والوں اور پیسے بنانے والوں کا احتساب نہیں کریں گے تو ملک نہیں چلے گا، ہم نے حکومت میں آکر اداروں کو آزاد کیا۔
گھوٹکی میں پیش آنے والے واقعے پر وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان میں سب شہریوں کے حقوق برابر ہیں، گھوٹکی واقعات دورہ امریکہ کو سبوتاژ کرنے کی سازش ہیں۔انہوں نے کہا کہ افغان امن مذاکرات اگر آگے نہ بڑھے تو بہت بڑی ٹریجڈی ہوگی۔ پیر کو ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات ہوگی جس میں مذاکرات بحالی پر پورا زور دیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *