چند مخصوص شعبے بند رہیں گے بقیہ کھول دیے جائیں گے، وزیراعظم

ہمیں کورونا وائرس کے ساتھ رہنا ہے اور وائرس کے ساتھ زندگی گزارنا ہو گی، عمران خان کی بریفنگ

قومی رابطہ کمیٹی کی5دن کاروبارکی اجازت،مارکیٹیں شام سات بجےتک کھل سکیں گی

اسلام آباد : (پاکستان فوکس آن لائن)وزیراعظم کی زیر صدارت قومی رابطہ کمیٹی نے ہفتے میں 5 دن کاروبار کی اجازت دینے، خیبرپختونخوا اور گلگت کے سیاحتی مراکز کھولنے اور مزید 10 ٹرینیں چلانے کا فیصلہ کرلیا، ہفتہ اور اتوار کو مکمل لاک ڈاؤن ہوگا۔وزیراعظم کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن کرونا وائرس سے بچاؤ کا علاج نہیں، کوئی گارنٹی نہیں لاک ڈاؤن کھولنے سے وائرس دوبارہ پھیل جائے، ابھی بھی ہمارے پاس 50 فیصد سے زیادہ وینٹی لیٹرز خالی ہیں، ٹیکس کلیکشن 30 فیصد کم اور انویسٹمنٹ رک چکی ہے۔وزیراعظم کی زیر صدارت قومی رابطہ کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں کرونا وائرس سے بچاؤ اور معیشت پر اس کے اثرات سمیت دیگر اہم امور پر گفتگو کی گئی۔قومی رابطہ کمیٹی نے ملک بھر میں ہفتے میں 5 دن ایس او پیز کے تحت کاروبار کی اجازت دینے کا اور ہفتہ و اتوار کو مکمل لاک ڈاؤن کا فیصلہ کرلیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ہفتہ میں 5 دن کاروباری مراکز کو شام 7 بجے تک کھلا رکھا جائے گا، تمام حفاظتی تدابیر اور اقدامات یقینی بنانا ہوں گے۔ رابطہ کمیٹی نے مزید 10 ٹرینیں چلانے کی بھی منظوری دیدی، اب ملک کے مختلف حصوں کیلئے روزانہ 40 ٹرینیں چلیں گی، بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کو خصوصی پروازوں کے ذریعے وطن لایا جائے گا جبکہ خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان کے سیاحتی مقامات بھی کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ وزیراعظم نے اس حوالے سے خیبرپختونخوا حکومت کو سفارشات تیار کرنے کی ہدایت کردی۔
وزیراعظم عمران خان نے کورونا وائرس کے معاملے پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کورونا کے پھیلاؤ کا علم ہوتے ہی محض 26 کیسز پر ہی ہم نے اجلاس طلب کیے اور لاک ڈاؤن کیا، اس وقت تک کسی کو معلوم نہیں تھا کہ آگے کیا حالات ہوں گے، ہم نے ڈاکٹروں سے رائے لی اور عالمی حالات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ جب یورپ میں کورونا وائرس پہنچا تو ہم نے دیکھا کہ ہمارت حالات چین اور یورپ کی طرح نہیں، ہمارے ملک میں ان ممالک کے مدمقابل غربت بہت ہے، 5 کروڑ افراد دو وقت کا کھانا نہیں کھاسکتے، ڈھائی کروڑ افراد یومیہ کمانے والے ہیں جو اگر روز نہیں کمائیں گے تو ان کے گھر کا چولہا نہیں جلے گا۔وزیراعظم نے کہا کہ میرے ذہن میں تھا کہ اگر پاکستان میں یورپ جیسا لاک ڈاؤن کیا گیا تو ان غریبوں کا کیا ہوگا؟ لاک ڈاؤن سے وائرس کے پھیلاؤ کو کم کیا جاسکتا ہے لیکن یہ اس کا علاج نہیں کیوں کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے غریب بہت متاثر ہوا۔عمران خان نے کہا کہ لاک ڈاؤن کے امیر افراد پر اثرات الگ اور کچی آبادی پر الگ طرح سے مرتب ہورہے ہیں، ہمیں وائرس کے پھیلاؤ اور بھوک و افلاس دونوں کو مدنظر رکھنا ہے، صوبوں کے پاس اختیارت ہیں انہیں بھی دیکھنا ہے، پیسے والے کچھ اور کہتے ہیں لیکن غریب طبقہ جو تکلیف میں ہے اس کی آواز سامنے نہیں آرہی، لاک ڈاؤن کی وجہ سے لوگوں کو بہت تکلیف پہنچی۔وزیراعظم نے کہا کہ میں کاروبار کبھی بند نہیں کرتا لیکن مجبوری میں ایسا کیا، جب تک ویکیسن نہیں ملے گا یہ وائرس ختم نہیں ہوگا امیر ترین ممالک سمیت ساری دنیا اس نتیجے پر پہنچ چکی ہے کہ ہمیں اس وائرس کے ساتھ جینا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ وائرس کے ساتھ کامیاب طریقے سے جینے کی ذمہ داری عوام کی ہے، اگر لوگ لاک ڈاؤن کے دوران عام زندگی گزارنے لگیں اور احتیاط چھوڑ دی تو اس کا نقصان عوام کو ہی پہنچے گا، ہم ایس او پیز دے رہے ہیں، جن شعبہ جات میں خطرہ زیادہ ہے انہیں تاحال بند رکھا جائے گا تاہم بقیہ تمام شعبہ جات کھلے رہیں گے جن کی فہرست جلد سامنے آجائے گی، عوام سے اپیل ہے کہ ہمیں ایک ذمہ دار قوم بننا پڑے گا۔وزیراعظم نے بھارت کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مکمل لاک ڈاؤن کیا تو وہاں عوام کا برا حال ہوگیا، کافی لوگ مرگئے انہیں میلوں پیدل چلنا پڑا لیکن پھر بھی وہاں کورونا وائرس پھیلا اور اسپتال بھر گئے اور انہیں معاشی حالات کے باعث ملک کھولنا پڑا، میں افسوس کے ساتھ کہتا ہوں کہ وائرس کے پھیلاؤ اور اموات میں اضافہ ہوگا اس لیے عوام جتنا احتیاط کریں گے ان کے لیے اتنا بہتر ہے۔
ٹائیگر فورس کے متعلق انہوں نے کہا کہ اس فورس کے اب تک 10 لاکھ رضا کار سامنے آچکے ہیں، جلد اس فورس کو استعمال کریں گے کم از کم اس سال وائرس کے ساتھ گزرا کرنا ہے اور ایس او پیز پر مکمل طور پر عمل کرنا ہے تاکہ وائرس نہ پھیلے، میری اٹلی کے وزیراعظم سے آج بات ہوئی تو معلوم ہوا کہ کورونا وائرس کے مریضوں کی وجہ سے طبی عملے پر کتنا بوجھ ہے، میں اپنے ہیلتھ ورکرز کی خدمات کو سراہتا ہوں۔انہوں نے اوورسیز پاکستانیوں سے متعلق اعلان کیا کہ انہیں جلد از جلد اور بڑی تعداد میں وطن واپس پاکستان لایا جائے گا جس کے لیے فلائٹس کی تعداد بڑھائی جائے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *