بھارت سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن بننے کیلئے سرتوڑ کوششوں میں مصروف

جنرل اسمبلی 17 جون کو سلامتی کونسل کے 5 غیر مستقل ارکین کا 2 سال کیلئے انتخاب کریگی

اقوام متحدہ کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزیاں کرنے اور نہتے کشمیریوں پر ظلم کے پہاڑ توڑنے والا بھارت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن بننے کے لیے سرتوڑ کوشش کر رہا ہے۔ اقوم متحدہ کی جنرل اسمبلی 17 جون کو سلامتی کونسل کے 5 غیر مستقل ارکین کا 2سال کے لیے انتخاب کرے گی۔ہندو انتہا پسند تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) اور ہندوتوا کی فسطائیت پر مبنی پالیسی پر عمل پیرا بھارت سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن بننے کے لیے جوڑ توڑ میں مصروف ہے۔
کیا دنیا انڈیا کی سیفران، مذہبی اور ہندو دہشتگردی نظر انداز کر دے گی؟۔انتہاء پسند مودی سرکار انسانی حقوق اور عالمی قوانین کی خلاف ورزیاں دنیا سے پوشیدہ نہیں، کشمیری نوجوانوں کا قتل عام، کنٹرول لائن پر معصوم شہریوں پر گولہ باری اور بھارت کے اندر اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں پر تشدد کے بڑھتے واقعات مودی سرکار عالمی سطح پر بے نقاب کرچکے ہیں، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی رکنیت کیلئے بھارتی لابنگ نے عالمی ضمیر اور انصاف پر سوالات اٹھا رہی ہے۔کشمیر میں تاریخ کا بدترین لاک ڈاؤن، متنازعہ شہریت بل، ایل او سی پر سیز فائرکی خلاف ورزیاں اور چین، نیپال سمیت دیگر پڑوسیوں کے ساتھ سرحدی تنازعات کے باوجود بھارت کو رکنیت سے نوازنا عالمی قوانین اور انصاف پر کاری ضرب ہوگا۔انسانی حقوق کے علم بردار پوچھ رہے ہیں، کیا دُنیا بھارت کی سیفران، مذہبی اور ہندو دہشتگردی نظر انداز کر دے گی؟ سمجھوتہ ایکسپریس کے بعد کلبھوشن بھی بھارتی دہشتگردی کے منہ بولتا ثبوت ہے، ایسے میں بھارت کیسے عالمی اعزاز حاصل کرسکتا ہے۔اقوام عالم کو سوچنا ہو گا کہ کیا سلامتی کونسل ہی کی کشمیر پر قراردادوں کو رد کرنے والے، یو این فوجی مبصر مشن کو مقبوضہ کشمیر میں قدم رکھنے کی اجازت نہ دینے والے اور کنٹرول لائن پر پاکستانی سول آبادیوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانے والا بھارت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن بننے کا اہل ہے یا نہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *